ٱلْقَارِعَةُ ﴿١﴾
کھڑ کھڑانے والی
قرآن کی 101ویں سورت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلْقَارِعَةُ ﴿١﴾
کھڑ کھڑانے والی
مَا ٱلْقَارِعَةُ ﴿٢﴾
کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ ﴿٣﴾
اور تم کیا جانوں کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ﴿٤﴾
(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ ﴿٥﴾
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ ﴿٦﴾
تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے
فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ ﴿٧﴾
وہ دل پسند عیش میں ہو گا
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ ﴿٨﴾
اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌۭ ﴿٩﴾
اس کا مرجع ہاویہ ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ ﴿١٠﴾
اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟
نَارٌ حَامِيَةٌۢ ﴿١١﴾
دہکتی ہوئی آگ ہے
عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔
سورۃ القارعة (القارعة) قرآن کی 101ویں سورت ہے۔ اس میں 11 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
اس کا نام، القارعة، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔
سورۃ القارعة میں 11 آیات ہیں۔
درجہ بندی: مکی۔
سورۃ القارعة پارہ 30 میں ہے۔
اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، عبدالرحمٰن السدیس، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔