هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَٰشِيَةِ ﴿١﴾
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
قرآن کی 88ویں سورت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَٰشِيَةِ ﴿١﴾
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ ﴿٢﴾
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
عَامِلَةٌۭ نَّاصِبَةٌۭ ﴿٣﴾
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةًۭ ﴿٤﴾
دہکتی آگ میں داخل ہوں گے
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍۢ ﴿٥﴾
ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍۢ ﴿٦﴾
اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍۢ ﴿٧﴾
جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاعِمَةٌۭ ﴿٨﴾
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۭ ﴿٩﴾
اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍۢ ﴿١٠﴾
بہشت بریں میں
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةًۭ ﴿١١﴾
وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے
فِيهَا عَيْنٌۭ جَارِيَةٌۭ ﴿١٢﴾
اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے
فِيهَا سُرُرٌۭ مَّرْفُوعَةٌۭ ﴿١٣﴾
وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے
وَأَكْوَابٌۭ مَّوْضُوعَةٌۭ ﴿١٤﴾
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌۭ ﴿١٥﴾
اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے
وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌ ﴿١٦﴾
اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾
یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ﴿١٨﴾
اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے
وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ﴿١٩﴾
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں
وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌۭ ﴿٢١﴾
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ﴿٢٢﴾
تم ان پر داروغہ نہیں ہو
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ ﴿٢٣﴾
ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا
فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ ﴿٢٤﴾
تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا
إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ ﴿٢٥﴾
بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ﴿٢٦﴾
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔
سورۃ الغاشية (الغاشية) قرآن کی 88ویں سورت ہے۔ اس میں 26 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
اس کا نام، الغاشية، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔
سورۃ الغاشية میں 26 آیات ہیں۔
درجہ بندی: مکی۔
سورۃ الغاشية پارہ 30 میں ہے۔
اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، عبدالرحمٰن السدیس، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔