إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ ﴿١﴾
جب آسمان پھٹ جائے گا
قرآن کی 84ویں سورت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ ﴿١﴾
جب آسمان پھٹ جائے گا
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٢﴾
اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے
وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ ﴿٣﴾
اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ﴿٤﴾
جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر ڈال دے گی اور (بالکل) خالی ہو جائے گی
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٥﴾
اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے (تو قیامت قائم ہو جائے گی)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًۭا فَمُلَٰقِيهِ ﴿٦﴾
اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ ﴿٧﴾
تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًۭا يَسِيرًۭا ﴿٨﴾
اس سے حساب آسان لیا جائے گا
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًۭا ﴿٩﴾
اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے گا
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهْرِهِۦ ﴿١٠﴾
اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
فَسَوْفَ يَدْعُوا۟ ثُبُورًۭا ﴿١١﴾
وہ موت کو پکارے گا
وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا ﴿١٢﴾
اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا
إِنَّهُۥ كَانَ فِىٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا ﴿١٣﴾
یہ اپنے اہل (و عیال) میں مست رہتا تھا
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ ﴿١٤﴾
اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا
بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًۭا ﴿١٥﴾
ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ﴿١٦﴾
ہمیں شام کی سرخی کی قسم
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ﴿١٧﴾
اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی
وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ ﴿١٨﴾
اور چاند کی جب کامل ہو جائے
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ ﴿١٩﴾
کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے
فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٠﴾
تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ ﴿٢١﴾
اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ ﴿٢٢﴾
بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ ﴿٢٣﴾
اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے
فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٤﴾
تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ ﴿٢٥﴾
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے
عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔
سورۃ الانشقاق (الانشقاق) قرآن کی 84ویں سورت ہے۔ اس میں 25 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
اس کا نام، الانشقاق، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔
سورۃ الانشقاق میں 25 آیات ہیں۔
درجہ بندی: مکی۔
سورۃ الانشقاق پارہ 30 میں ہے۔
اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، عبدالرحمٰن السدیس، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔