عمومی طور پر نہیں۔ اللہ کے سامنے عورت کی قدر مرد کے برابر ہے۔ جن دو احکام کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ محدود ہیں: قرآن لکھے ہوئے مالی معاہدے میں گواہی کے لیے ایک مرد کی جگہ دو عورتیں مانگتا ہے، اور وراثت کی بعض صورتوں میں بیٹی کو بیٹے کا آدھا حصہ دیتا ہے۔
تفصیلی جواب
وراثت میں بیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ اس لیے ملتا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق وہ اپنی بیوی، بچوں اور اکثر اپنے والدین اور بہنوں کی کفالت کا ذمہ دار ہے، جبکہ بیٹی کا حصہ صرف اس کا اپنا ہے، اور اسے کسی پر خرچ کرنے کی ذمہ داری نہیں۔ بہت سی دوسری صورتوں میں عورتیں مردوں کے برابر یا ان سے زیادہ وراثت پاتی ہیں: مثلاً ماں اور باپ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملتا ہے، اور بعض صورتوں میں بیٹی بھائی سے زیادہ وراثت پاتی ہے۔
گواہی کی آیت قرض کے معاہدے کے بارے میں ہے، جب عورتیں کاروبار کی کم عادی تھیں، اور ایک دوسری کو یاد دلا سکتی ہے۔ دوسرے معاملات میں، جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی کا دینی علم کے ماخذ کے طور پر، عورت کی بات پوری طرح قبول کی جاتی ہے۔ علماء میں اس بات پر اختلاف ہے کہ اسے جدید عدالتوں میں کیسے لاگو کیا جائے۔
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
یہ جواب اہلِ سنت کی مرکزی سمجھ کے مطابق ہے اور عمومی معلومات ہے، فتویٰ نہیں۔ جہاں مسلمانوں میں اختلاف ہے، وہاں جواب اس کا ذکر کرتا ہے۔ کیا آپ کا کوئی اپنا سوال ہے؟ ہمیں لکھیں.