عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ﴿١﴾
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
قرآن کی 80ویں سورت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ﴿١﴾
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ ﴿٢﴾
کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ﴿٣﴾
اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ ﴿٤﴾
یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ ﴿٥﴾
جو پروا نہیں کرتا
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ﴿٦﴾
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ﴿٧﴾
حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ ﴿٨﴾
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا
وَهُوَ يَخْشَىٰ ﴿٩﴾
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ﴿١٠﴾
اس سے تم بےرخی کرتے ہو
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌۭ ﴿١١﴾
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ﴿١٢﴾
پس جو چاہے اسے یاد رکھے
فِى صُحُفٍۢ مُّكَرَّمَةٍۢ ﴿١٣﴾
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
مَّرْفُوعَةٍۢ مُّطَهَّرَةٍۭ ﴿١٤﴾
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں
بِأَيْدِى سَفَرَةٍۢ ﴿١٥﴾
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍۢ ﴿١٦﴾
جو سردار اور نیکو کار ہیں
قُتِلَ ٱلْإِنسَٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ ﴿١٧﴾
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ﴿١٨﴾
اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ﴿١٩﴾
نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ﴿٢٠﴾
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ ﴿٢١﴾
پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ﴿٢٢﴾
پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ ﴿٢٣﴾
کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ﴿٢٤﴾
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے
أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّۭا ﴿٢٥﴾
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّۭا ﴿٢٦﴾
پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا
فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّۭا ﴿٢٧﴾
پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا
وَعِنَبًۭا وَقَضْبًۭا ﴿٢٨﴾
اور انگور اور ترکاری
وَزَيْتُونًۭا وَنَخْلًۭا ﴿٢٩﴾
اور زیتون اور کھجوریں
وَحَدَآئِقَ غُلْبًۭا ﴿٣٠﴾
اور گھنے گھنے باغ
وَفَٰكِهَةًۭ وَأَبًّۭا ﴿٣١﴾
اور میوے اور چارا
مَّتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ﴿٣٢﴾
(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ﴿٣٣﴾
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾
اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾
ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ مُّسْفِرَةٌۭ ﴿٣٨﴾
اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے
ضَاحِكَةٌۭ مُّسْتَبْشِرَةٌۭ ﴿٣٩﴾
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۭ ﴿٤٠﴾
اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ﴿٤١﴾
(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی
أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ ﴿٤٢﴾
یہ کفار بدکردار ہیں
عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔
سورۃ عبس (عبس) قرآن کی 80ویں سورت ہے۔ اس میں 42 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
اس کا نام، عبس، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔
سورۃ عبس میں 42 آیات ہیں۔
درجہ بندی: مکی۔
سورۃ عبس پارہ 30 میں ہے۔
اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، عبدالرحمٰن السدیس، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔