وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا ﴿١﴾
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں
قرآن کی 79ویں سورت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا ﴿١﴾
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں
وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًۭا ﴿٢﴾
اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں
وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًۭا ﴿٣﴾
اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں
فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًۭا ﴿٤﴾
پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا ﴿٥﴾
پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ﴿٦﴾
(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا
تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ﴿٧﴾
پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا
قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ ﴿٨﴾
اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے
أَبْصَٰرُهَا خَٰشِعَةٌۭ ﴿٩﴾
اور آنکھیں جھکی ہوئی
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ ﴿١٠﴾
(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا نَّخِرَةًۭ ﴿١١﴾
بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)
قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ ﴿١٢﴾
کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ ﴿١٣﴾
وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ﴿١٤﴾
اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ﴿١٥﴾
بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے
إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾
جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ﴿١٧﴾
(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
اور (اس سے) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾
اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو
فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٢٠﴾
غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾
مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾
اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾
کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ﴿٢٥﴾
تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ﴿٢٦﴾
جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ﴿٢٧﴾
بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ﴿٢٨﴾
اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ﴿٢٩﴾
اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی
وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ﴿٣٠﴾
اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا
أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ﴿٣١﴾
اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ﴿٣٢﴾
اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا
مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ﴿٣٣﴾
یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا)
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٣٤﴾
تو جب بڑی آفت آئے گی
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ﴿٣٥﴾
اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ﴿٣٦﴾
اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ﴿٣٧﴾
تو جس نے سرکشی کی
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿٣٨﴾
اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾
اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾
اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾
اس کا ٹھکانہ بہشت ہے
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ﴿٤٢﴾
(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ﴿٤٣﴾
سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ﴿٤٤﴾
اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ﴿٤٥﴾
جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ﴿٤٦﴾
جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے
عربی متن: عثمانی رسم الخط۔ ترجمہ: Fateh Muhammad Jalandhry۔ آڈیو: everyayah.com۔
سورۃ النازعات (النازعات) قرآن کی 79ویں سورت ہے۔ اس میں 46 آیات ہیں اور یہ پارہ 30 میں واقع ہے۔ اسے مکی سورت شمار کیا جاتا ہے، یعنی یہ بیشتر نبی ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔
اس کا نام، النازعات، عربی میں اس سورت کی پہچان ہے۔
سورۃ النازعات میں 46 آیات ہیں۔
درجہ بندی: مکی۔
سورۃ النازعات پارہ 30 میں ہے۔
اسے آیت بہ آیت سننے کے لیے اس صفحے پر پلے دبائیں، قاری: مشاری العفاسی، محمود خلیل الحصری، عبدالباسط عبدالصمد، عبدالرحمٰن السدیس، ماہر المعیقلی، سعد الغامدی، احمد العجمی، ابوبکر الشاطری، ہانی الرفاعی، محمد صدیق المنشاوی، علی الحذیفی، محمد ایوب، عبداللہ بصفر، یاسر الدوسری، ناصر القطامی، صلاح البدیر، سعود الشریم، عبداللہ عواد الجہنی، محمد جبریل۔